اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق صہیونی اخبار یدیعوت آحارونوت نے فوجی امور کے صہیونی تجزیہ نگار "الیکس فش مین کے قلم سے لکھا ہے کہ صہیونی حکام جو موجودہ جنگ کی قیادت کررہے ہیں وہ چھوٹے اہداف کے حصول کے لئے زمینی حملے کےخواہاں نہيں ہیں لیکن اگر حماس اپنی کامیابی جتانے کے لئے صہیونی ریاست کو شدید نقصانات پہنچائے تو صہیونی ریاست کے وزراء شاید "اپنے صبر و تحمل" کو ترک کردیں اور حماس کو اپنا مقصد حاصل نہيں کرنے دیں گے۔ فش مین نے کہا: جب اسرائیل نے اپنی 75 ہزار ریزرو فورس کو بلوایا تو بیرونی نامہ نگاروں نے کئی بار اسرائیلی حکام سے پوچھا کہ کیا وہ غزہ پر قبضہ کرنا چاتے ہیں اور اسرائیلی حکام نے کہا کہ وہ غزہ پٹی پر قبضہ کرنے کے لئے اقدام کرسکتے ہیں!فش مین نے کہا: ان تمام تر حقائق کے باوجود جنگ بندی کے لئے سفارتی اور سیاسی حل نکالنے کے لئے کوششیں کی جارہی ہیں اور صہیونی حکام نے اس سلسلے میں مصری حکومت سے بات چیت بھی کی ہے۔

فشمین نے لکھا ہے کہ مصری وزیر اعظم نے غزہ کے دورے میں جنگ بندی کے لئے جو شرطیں بیان کی ہیں ان میں رفح پاس کو کھول دینا، فلسطینی راہنماؤں پر دہشت گردانہ حملے روکنا، غزہ کا محاصرہ ختم کرنا اور غزہ کی سالمیت کا احترام کرنا شام ہیں تا ہم یہ شرطیں غیر منطقی نامعقول اور ناقابل قبول ہیں۔اس صہیونی تجزیہ نگار نے مزید کہا: مصری حکام حماس کے خالد مشعل اور جہاد اسلامی کے رمضان عبداللہ کے ساتھ رابطے میں ہیں اور اسرائیلی حکام بھی مصری حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں اور جنگ بندی کی کوششیں ہورہی ہیں۔
صہیونی تجزیہ نگار جنگ بندی پر زور دینے کے باوجود یہودی ریاست کی معمول کی بڑھکیں لگانا نہیں بھولا اور اپنی خفت چھپانے کی اپنی سی کوشش سے باز نہيں رہا! جبکہ صہیونی ریاست کی طرف سے جنگ بندگی کوششیں ایسے حال میں زوروں پر ہیں کہ دو دن قبل وہ پورے وثوق سے زمینی حملے کی دھمکیاں دے رہی تھی۔ غاصب و جارح صہیونیوں کی جانب سے جنگ بندیوں کی کوششیں مزاحمت تحریک کے وہ حملے ہیں جن کی وجہ سے مقبوضہ سرزمین کے جنوبی علاقے خالی ہوچکے ہیں صہیونی غاصبین شمالی فلسطین کی طرف بھاگ چکے ہیں اور تل ابیب کے باشندوں سے بھی آرام کی نیند چھن چکی ہے۔جنگ بندی کی صہیونی کوششوں کی بعض وجوہات کا اندازہ ذیل کے واقعات سے لگایا جاسکتا ہے:٭ اتوار کے دن رات گئے ملنے والی خبروں کے مطابق اسلامی مزاحمت کی تحریک کے میزائلوں نے صہیونی دارالحکومت تل ابیب کو ایک بار پھر نشانہ بنایا ہے جس سے غاصب صہیونیوں میں خوف و ہراس پھیل چکا ہے اور صہیونیوں کی اکثریت کا بیشتر وقت زیر زمین پناہگاہوں میں صرف ہورہا ہے۔ اتوار کے دن حماس اسلامی جہاد کے میزائلوں نے تل ابیب کئی مرتبہ دھماکوں سے لرز چکا ہے۔ اور سائرن کی آوازیں مسلسل سنائی دے رہی ہیں۔اطلاعات کے مطابق صہیونی میزائل دفاعی سسٹم نے کئی میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کیا لیکن متعدد میزائل تل ابیب پر اترنے میں کامیاب بھی ہوئے ہیں۔ ٭ صہیونیوں کا دوسرا جنگی طیارہ غزہ کے جنوبی علاقے خان یونس ميں فلسطینی مجاہدین میزائل کا نشانہ بن کر تباہ ہوا ہے۔ ٭ صہیونیوں کا ایک بحری جہاز بھی مزاحمت تحریک کے حملے کا نشانہ بنا ہے۔ ٭ فلسطینی مجاہدین کے میزائل حملوں کے بموجب مقبوضہ فلسطین کے متعدد علاقوں میں درجنوں صنعتی مراکز اور کارخانے بند ہوچکے ہیں۔
٭ اتوار کے روز اسلامی مزاحمت تحریک کے مجاہدین نے مقبوضہ 70 میزائل فائر کرکے کئی شہروں میں صہیونیوں کے فوجی اڈوں اور حساس مقامات کو نشانہ بنایا۔
فلسطینی شہداء کی تعداد 90 سے زائدغزہ میں طبی ذرائع نے آج صبح (سوموار 19 نومبر 2012) اعلان کیا ہے صہیونیوں نے دیرالبلح میں تین فلسطینیوں کو شہید کردیا ہے اور شہداء کی تعداد 90 ہوگئی ہے۔ صہیونی حملوں میں اب تک 700 فلسطینی زخمی ہوچکے ہیں۔صہیونی ریاست نے اتوار کے روز چھبیس فلسطینیوں کو شہید کیا جن میں نو بچے بھی شامل ہیں۔.........../110
یہ پوسٹر ایک صہیونی نے رسم کیا ہے دیکھیں اور اندازہ لگائیں کہ غزہ پر حملے سے صہیونی ریاست کس قدر ناامید ہے:
